درخت لگائیں؛ زمین کو گرمی سے بچائیں

20 503

سال کا طویل ترین دن یعنی 21 جون ہمارے ملک پاکستان کے لیے شدید ترین گرم دن بھی رہا۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں درجہ حرارت گزشتہ سالوں کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا۔ صرف کراچی ہی میں شدید ترین گرمی کے باعث 2 دن میں درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔ موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کا یہ سلسلہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کا دورانہ بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے۔

گرمی میں شدید اضافے کی بہت سی وجوہات میں پیڑ، پودوں اور درختوں کا بڑے پیمانے پر صفایہ کیا جانا بھی شامل ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے شہروں میں موٹر ویز کی تعمیر اور شاہراہوں پر بڑے سائن بورڈز نصب کرنے کے لیے درختوں کو کاٹا جارہا ہے تو دوسری جانب غیر سرکاری کاروباری ادارے بھی فیکٹریوں اور نجی تعمیری منصوبوں کے لیے جنگلات سے درختوں کا سفایا کر رہے ہیں۔

ٹھنڈے کمروں میں کاروباری منصوبے بنانے والوں کے لیے گرمی میں اضافہ شاید اتنا اہم مسئلہ نہیں ہوگا لیکن عام افراد اس سے انتہائی متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے کسی کے انتظار میں وقت ضایع کیے بغیر پہلا قدم خود اٹھائیں اور اپنے گھروں، گلی اور محلوں میں درخت لگا کر اس نیک کام کا آغاز کریں۔ جو احباب فلیٹ یا چھوٹے مکانات میں رہتے ہیں وہ گملوں میں پودے لگا کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مصطفی ملک کے بلاگ گھریلو باغبانی پر بہت مفید معلومات موجود ہیں۔

درخت زمین کے گرد موجود اوزون کی تہہ کے لیے انتہائی نقصاندہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عنصر کاربن کو جذب کرتا ہے (جس سے گرمی کی شدت میں کمی ہوتی ہے) اور تازہ آکسیجن خارج کرتا ہےجو زندگی کا انتہائی اہم عنصر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عام درخت چار افراد پر مشتمل خاندان کے لیے ایک سال تک آکسیجن فراہم کرسکتا ہے۔ گھروں اور چھوٹی عمارات کے آس پاس درخت لگانے سے کمرے ٹھنڈے رکھنے کے نظام مثلاً اے سی (ایئر کنڈیشن) کے اخراجات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔

درخت لگانے کا کام بہت مہنگا یا زیادہ وقت طلب نہیں ہے۔ صرف چند بیجوں کو ایسی جگہ بوئیں جہاں ہوا، دھوپ اور مٹی موجود ہو اور آپ دن میں ایک بار پانی دے سکیں۔ کچھ پودوں کو تو روزانہ پانی دینے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ انہیں ایک دو روز کے وقفے سے بھی پانی دیا جاسکتا۔ بارشوں کے موسم میں تو اس کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ آپ کو اپنی محنت کا پھل چند ہفتوں میں ہی نظر آجائے گا جس سے نہ صرف آپ، بلکہ آپ کی آنے والی نسلیں اور دیگر انسان و چرند پرند بھی فائدہ اٹھائیں گے۔

اس وقت پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں اگر ان میں سے ہر فرد صرف ایک درخت لگائے تو مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ درخت ہوجائیں گے جو تقریباً چھ کروڑ آبادی کے لیے آکسیجن پیدا کریں گے۔ اس تحریک کو مزید فروغ دینے کے لیے پیدائش، سالگرہ یا دیگر مواقع پر کسی کی نسبت سے درخت لگانے کی روایت بھی شروع کی جانی چاہیے۔

20 تبصرے
  1. Muhammad Zubair Mirza کا کہنا ہے

    Naeem Akhtar نظامی بھائی ایک اورماحولیات والابندہ مل گیا:)

  2. Ahsan Saeed کا کہنا ہے

    فیس بک پر پاکستانیوں کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

    1. Danish Mughal کا کہنا ہے

      Us 2 crore ke abaadi mein NAJAIZ bhe shaamil hain maslan Prince Boy, Cute Princess, Sohni Kurrii etc… 😛

  3. Ahsan Raza کا کہنا ہے

    Is k lie pahle 1.5 crore logon ko Ye article parhana pare ga

  4. محمد اسد کا کہنا ہے

    @Danish Mughal: ہاہاہا دوسرے لفظوں میں جعلی (فیک) آئی ڈیز 😀

  5. محمد اسد کا کہنا ہے

    @Ahsan Raza: پڑھیں گے ان شاء اللہ 🙂 آپ اس کا اشتہار چلادیں تو 😉

  6. شینا کا کہنا ہے

    بہت عمدہ تحریر ہے…جیتے رہئے

  7. محمد اسد کا کہنا ہے

    @شینا: بلاگ پر آمد اور تبصرے کا شکریہ 🙂

  8. محمد زبیرمرزا کا کہنا ہے

    حالیہ گرمی کی لہر سے متاثرہونے والے اور اس کی شکایت کرنے والے آپ کی اس تحریرمیں موجود اس مسئلے کا حل پڑھ کراس جانب توجہ دیں تو آئندہ کےلیے اس تکلیف میں خاطرخواہ کمی پائیں گے- شجرکاری کی اہمت اورافادیت کو اُجاگرکرنے کے لیے شکریہ -ابھی حال ہی میں یعنی 5جون کا ماحولیات کا عالمی دن تھا لیکن ہماری
    غفلت ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کی کوئی معمولی تدبیربھی کرنے کوتیار نہیں – شجرکاری کے حوالے سے املتاس جسے شاہ اشجاربھی کہتے اگرلگایا جائے جس میں ماحول کو صاف کرنے کی منفرد صلاحیت ، تیز رفتاری سے ہر طرح کے موسمی حالات میں بڑھنا اورزمین کے اوپر اور نیچے بہت قیمتی بائیوماس اور لکڑی پیدا کرنا اس درخت کے اہم فوائد ہیں – ہم کسی بھی قریبی نرسری سے اس کا پودا حاصل کرسکتے ہیں –

  9. محمد اسد کا کہنا ہے

    @محمد زبیرمرزا: بہت شکریہ زبیر بھائی۔ املتاس واقعی بہت اچھا اور خوبصورت پھول ہے۔ گھر کے قریب ایک دو جگہیں دیکھیں ہیں، اگر اجازت مل گئی تو اس کو لگانے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ

  10. راجہ اکرام کا کہنا ہے

    ڈیڑھ کروڑ درخت ہر سال لگائیں گے تو پھر رہیں گے کہاں پر ؟

    1. راجہ اکرام کا کہنا ہے

      سر جی پورے پاکستان میں سالانہ ڈیڑھ کروڑ لگائیں تو سوچیں 20 سال بعد بات کہاں تک جا پہنچے گی
      نیز سالانہ کئی کروڑ درخت بغیر لگائے بھی اگ رہے ہیں ان کو بھی ذہن میں رکھیں 🙂

      1. محمد اسد کا کہنا ہے

        یہ سالانہ کا لفظ تو آپ کی خواہش ہے 🙂 میں نے تو ایسا مشورہ نہیں دیا

    2. راجہ اکرام کا کہنا ہے

      آپ کے خیال میں کتنے عرصہ بعد لگانا چاہییے؟
      یا یہ فریضہ صرف زندگی میں ایک بار ادا کرنا ہے 🙂

    3. راجہ اکرام کا کہنا ہے

      نہیں ایسا نہیں، میں تو اس بار آم کے درجن بھر درخت لگانے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہوں 🙂
      نیز امردو اور جامن کے لیے بھی مشاورت جاری ہے؟
      اس سے قبل انار کے دو پودے اور ایک عدد انگور کی بیل جوانی کی منازل طے کر رہے ہیں جن کی تصاویر میری وال پر مرجع خلائق رہی ہیں 🙂

      اس کے علاوہ، شیشم، ببول اور نیم جیسے درخت بھی لگاتے اور کاٹتے رہتے ہیں

    4. راجہ اکرام کا کہنا ہے

      جی اس پر تفصیلی گزارشات ساجھی کروں گا ان شاء اللہ

  11. محمد اسد کا کہنا ہے

    @راجہ اکرام: ڈیڑھ کروڑ درخت پورے پاکستان میں لگانے ہیں 🙂 آپ حسب توقع جتنے لگاسکیں لگالیں۔

  12. محمد اسد کا کہنا ہے

    @راجہ اکرام: ویسے طریقہ یہ ہوتا ہے بوڑھے درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نئے درخت لگائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ درخت بوڑھا ہوجائے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کے قابل نہیں رہتا، اس لیے اسے کاٹ کر لکڑی اور پیپر وغیرہ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

  13. محمد اسد کا کہنا ہے

    @راجہ اکرام: تو بھائی اس کا تجربہ شیئر کریں تاکہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو۔ یہ بات آپ سے بہتر کون بتاسکتا ہے گرم موسم میں کونسے پھل یا پھول کا درخت لگانا زیادہ بہتر رہے گا اور کس طرح لگایا جائے؟

  14. محمد اسد کا کہنا ہے

    @راجہ اکرام: میں منتظر رہوں گا 🙂

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.