Rann – रन

10 86

میں ذاتی طور پر فلمیں اور خصوصاَ بھارتی فلمیں بہت کم دیکھتا ہوں کیوں کہ مجھے ایسی فلمیں پسند ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہوں. وہ فلمیں جن میں گلیمر، پیار محبت اور ناچ گانا وغیرہ ہو کم از کم میرے لیے دلچسپی کا باعث نہیں رہتیں کیوں کہ ان میں ایک طرح کی بناوٹ محسوس ہوتی ہے. بھارتی فلموں میں اپنے ملک کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے جس طرح کے ٹھاٹ باٹ، امن و سکون، ایمانداری، بھائی چارہ، ہر برائی سے پاک اور ‘سب سیٹ ہے’ کا تاثر پیش کیا جاتا ہے وہ اصلیت سے کافی دور ہے.

اکثر فلم سازوں کا اولین حدف فلم کی مقبولیت ہوتی ہے اور اسی چیز کو حاصل کرنے کی دھن میں اکثر فلمیں اپنے مقصد سے باہر نکل جاتی ہیں یا پھر ‘عوامی’ بن جاتی ہیں جنہیں فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا ممکن نہیں رہتا. لیکن پچھلے چند مہینوں میں دو تین فلمیں ایسی دیکھنا کا اتفاق ہوا جس سے پرانی روش کا خاتمہ اور نئے انداز میں حقیقی مسائل کی نشاندہی کی طرف رجحان زیادہ محسوس ہوا. 3 ایڈیٹس اور مائی نیم از خان انہی میں سے ایک لگیں کیوں کہ ان میں کچھ نیا اور مختلف انداز اپنایا گیا. ایسی ہی ایک فلم کل دیکھنے کا اتفاق ہوا اور وہ تھی Rann. جس کی ٹیگ لائن ہے "کیا ہم کبھی سچ جان پائیں گے؟”

Rann (غالباَ) ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ‘جنگ’ کے ہیں. اس فلم کے ہدایت کار رام گوپال ورما ہیں. اپنی پچھلی فلموں کی طرح اس فلم میں بھی رام گوپال ورما نے امیتابھ بچن کو لیڈ رول دیتے ہوئے معاشرہ کے ایک بگڑتے ہوئے پہلو یعنی میڈیا اور سیاستدانوں کے خراب ہوتے کردار کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے. یہ ایک انتہائی سنجیدہ فلم ہے جس کی کہانی موجودہ دور میں ٹی وی چینلز کے بڑھتے ہوئے مقابلہ اور اس میں موجود جمہوری سیاسی عنصر کے بارے میں ہے. اس فلم کے ذریعے میڈیا کے مسائل اور ان میں موجود کالی اور سفید بھیڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے. اس فلم کو دیکھنے کے بعد پاکستان، ہندوستان اور پوری دنیا میں جاری سیاسی پروپگنڈا اور میڈیا وار کے تعلق کو سمجھنے میں بھی کافی مدد مل سکتی ہے.

اس فلم کو دیکھنے کے بعد بہت سے سوالوں کے جوابات بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں مثلاَ ٹی وی چینلز سیاست دانوں کے ہاتھوں اور سیاست دان ایک چینل کے ہاتھوں کس طرح بکتے یا بلیک میل ہوتے ہیں. ایک چینل خبروں کی دوڑ میں دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے کس کس طرح کی کرپشن کرتا ہے. ایک اچھے اور سچے جرنلسٹ یا ٹی وی اینکر کو کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ. وہ لوگ جو میڈیا کو اندر تک دیکھنا چاہتے ہیں، ان کو یہ فلم کافی دلچسپ لگے گی. اس فلم کا مختصر جائزہ لینا چاہیں تو یوٹیوب پر موجود Rann کا ٹریلر دیکھ لیں. اگر آپ فیملی کے ساتھ اس فلم کو دیکھنا چاہیں تو ممکن ہے 3 ایڈیٹس اور مائی نیم از خان کی طرح اس میں بھی ایک آدھ سین فاسٹ فارورڈ کرنا پڑے.

10 تبصرے
  1. جعفر کا کہنا ہے

    رام گوپال ورما میرے چند پسندیدہ ہدایتکاروں میں سے ایک ہیں۔۔۔
    فلم عمدہ ہوگی یہ مجھے یقین تھا
    اب آپ کی گواہی بھی مل گئی ہے
    تو ٹورنٹ لگانا ہی پڑے گا۔۔۔
    😉

  2. خرم ابنِ شبیر کا کہنا ہے

    میں بھی فلمیں بہت کم ہی دیکھتا ہوں لیکن آپ نے جو کچھ اس فلم کے بارے میں کہا ہے اس وجہ سے اس فلم کو دیکھنا پڑے گا
    ویسے میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ میڈیا کس طرح ناکام چیز کو کامیاب بنا دیتا ہے۔ اور کس طرح غیر معمولی چیزوں کو خاص اور خاص چیزوں کو عام کر دیتا ہے

  3. ڈفر - DuFFeR کا کہنا ہے

    ایتھے ٹورنٹ نی چلدے
    🙁

  4. حیدرآبادی کا کہنا ہے

    فلمیں دیکھنا تو ہم نے بھی چھوڑ رکھا ہے. حالات حاضرہ سے آگاہ رہنے کچھ سنجیدہ دوست کچھ سنجیدہ فلموں کی رائے دیتے ہیں تو زبردستی وقت نکال کر اور ٹورنٹ سے لے کر دیکھنا پڑتا ہے. اب یہ رَن کی طرف بھی آپ نے توجہ دلا دی ہے …….. 😕

  5. arifkarim کا کہنا ہے

    اس فلم کا ریلیز نام یہ ہے:
    Rann – DVDRip – XviD – 1CDRip – [DDR]
    بہت ہی عمدہ فلم ہے۔ سب کو دیکھنے کی تلقین۔

  6. محمداسد کا کہنا ہے

    @ جعفر
    جی جی ہم آپ کی اداکاروں پر ہدایتکاروں کی فوقیت سے بالکل واقف ہیں 😀 . فلم دیکھ کر بتایے گا کہ کیسی لگی.

    @ خرم ابن بشیر
    بلاگ پر خوش آمدید. مجھے بھی میڈیا سے اس فلم کے تعلق نے ہی دیکھنے پر مجبور کیا.

    @ ڈفر
    اور بھی طریقے ہیں ٹورنٹ کے سوا 😉

    @ حیدرآبادی
    بلاگ پر حاضری کا شکریہ. جی دوستوں سے نہ صرف پوچھ کر بلکہ انہی کے پیسوں سے خرید کر دیکھنے کا مزہ ہی اور ہے 😛 .

    @ arifkarim
    ریلیز نام دینے کا شکریہ۔ امید ہے یہ نام ڈفر جیسے بھائیوں کو سرچنگ میں کام آسکے گا 😉

  7. شکاری کا کہنا ہے

    لو جی آپ کے کہنے پر میں نے بھی یہ فلم دیکھ ہی لی. اچھی ہے.

  8. راحت حسین کا کہنا ہے

    السلامُ علیکم اسد جی،

    پاکستان سے محبت کا ثبوت ہم اکثر ہندوستانی فلم نہ دیکھ کر دیتے ہیں، لیکن کچھ عرصہ ہوا دوستوں کے اکسانے پر اس "عصبیت” کو کم کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے، ہی ہی ہی. اب ٹورنٹ کے لئے سرچ کرتے وقت آپکا تبصرہ پڑھ کر سوچے جا رہا ہوں کہ "کونسے طریقے ہیں ٹورنٹ کے سوا”؟

  9. محمداسد کا کہنا ہے

    @ شکاری
    تحریر کو خاطر میں لانے کا شکریہ.

    @راحت حسین
    وعلیکم السلام و اہلا وسہلا مرحبا
    ٹورنٹ کے علاوہ دیگر فائل ہوسٹنگ ویب سائٹس مثلاَ ریپڈشئیر اور میگااپلوڈ پر بھی ایسی چیزیں میسر آ جاتی ہیں 😉

  10. قدیر احمد کا کہنا ہے

    لفظ رن کا مطلب جنگ ہی ہے۔ آپ نے یہ فقرہ تاریخ کی کتب میں پڑھا ہوگا کہ "اس کے بعد گھمسان کا رن پڑا” ۔ مطلب بہت لڑائی ہوئی۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا