عبرت ناک مگر امید سے بھرپور واقعہ

بصرہ کے قریب ایک ایسا شخص رہتا تھا جو اپنے گناہوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے لوگوں میں بدنام تھا۔ لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو کوئی شخص اس کے جنازے میں شریک ہونے پر آمادہ نہ ہوا۔
اس کی بیوی نے بہت کوشش کی کہ کوئی جنازہ اٹھانے والا مل جائے، کوئی نمازِ جنازہ پڑھا دے، مگر ہر طرف خاموشی تھی۔ آخرکار اُس نے چند مزدوروں کو اجرت دے کر میت کو گاؤں سے باہر ایک سنسان صحرا کی طرف لے جانے کا انتظام کیا۔ وہاں بھی کوئی ایسا نہ تھا جو اس کے جنازے کے لیے کھڑا ہوتا۔
اسی صحرا کے قریب ایک پہاڑی پر ایک عبادت گزار بزرگ رہتے تھے، جو اپنی عبادت، تقویٰ اور پرہیزگاری کی وجہ سے مشہور تھے۔ اچانک وہ پہاڑ سے نیچے اترے اور سیدھے اُس جنازے کے پاس آ گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔
یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں پھیل گئی کہ ایک نیک اور عبادت گزار بزرگ ایک بدنام شخص کے جنازے میں شریک ہونے آئے ہیں۔ لوگ حیران ہو کر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچنے لگے اور سب نے اُن بزرگ کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی۔
نماز کے بعد لوگوں نے حیرت سے پوچھا:
“آپ جیسے عبادت گزار شخص نے ایک ایسے گناہ گار کے جنازے کی نماز کیوں پڑھائی جس سے لوگ زندگی بھر نفرت کرتے رہے؟”
بزرگ نے جواب دیا:
“مجھے خواب میں حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر جاؤ، وہاں ایک جنازہ ہوگا جس کے ساتھ صرف ایک عورت ہوگی۔ اُس کی نمازِ جنازہ ضرور پڑھنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُس شخص کی مغفرت فرما دی ہے۔”
یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔
پھر اُس شخص کی بیوی کو بلایا گیا اور اُس کے بارے میں پوچھا گیا۔ اُس نے روتے ہوئے بتایا:
“وہ واقعی گناہوں میں مبتلا تھا، مگر اُس میں چند خوبیاں بھی تھیں جنہیں شاید لوگ نہیں جانتے تھے۔”
پھر اُس نے بتایا:
1️⃣ جب بھی وہ نشے کی حالت سے کچھ ہوش میں آتا، تو سب سے پہلے فجر کی نماز باجماعت ادا کرتا، پھر دوبارہ اپنی غفلت میں چلا جاتا۔
2️⃣ اُس کے گھر میں چند یتیم بچے رہتے تھے جن کا وہ اپنے بچوں سے بھی زیادہ خیال رکھتا تھا۔
3️⃣ رات کے وقت جب اُس پر ندامت طاری ہوتی تو وہ روتے ہوئے اللہ سے کہتا:
“اے اللہ! تُو اس گناہگار بندے سے جہنم کا کون سا حصہ بھرنا چاہتا ہے؟”
یہ سن کر لوگوں پر خاموشی طاری ہو گئی۔
وہ عبادت گزار بزرگ بھی واپس لوٹ گئے، مگر سب کے دلوں میں ایک گہرا سبق چھوڑ گئے۔
اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
کبھی کسی انسان کے ظاہر کو دیکھ کر اُس کے انجام کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دلوں کے حال، آنسوؤں کی سچائی اور توبہ کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے۔


سبق
کسی انسان کو ہمیشہ اُس کے ظاہری اعمال سے نہ پرکھیں۔
ممکن ہے جسے دنیا حقیر سمجھ رہی ہو، وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔
اور ممکن ہے جسے لوگ نیک سمجھتے ہوں، وہ اللہ کے ہاں ویسا نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ، نرمیِ دل اور دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔