بعض اوقات وقت کی رفتار ہمارے لیے رک سی جاتی ہے
زندگی کا ایک ایک لمحہ گراں گزرتا ہے، اور یہ کیفیت زیادہ تر اُس وقت طاری ہوتی ہے جب ہم انتظار نامی سولی پر لٹک جاتے ہیں۔ کسی کا انتظار کرنا بعض اوقات موت کے مترادف ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے مت مریں، یعنی کسی ایسے انتظار میں خود کو نہ جھونک دیں جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔
اگر انتظار کرنا ہی ہے تو اللہ کی رحمت کا کریں، دعا کی قبولیت کا کریں، کیونکہ یہ انتظار کبھی ضائع نہیں جاتا۔
انسان کبھی کبھار اتنا مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے رشتوں کی ڈوریاں کاٹ دیتا ہے، چاہے اُن ڈوریوں سے اس کی اپنی زندگی ہی کیوں نہ جڑی ہو۔ مگر یہ سب کچھ وہ اکثر دوسروں کے لیے کرتا ہے، تاکہ وہ آگے بڑھ سکیں۔ اگر اس کا وجود، اس کا بوجھ، اس کے اپنے پیاروں کے لیے مشکلات کا سبب بننے لگے تو وہ خاموشی سے خود کو ہٹا لیتا ہے۔
وہ مسکراتا رہتا ہے، اپنے سینے پر بے وفائی، بزدلی اور تہمتوں کے الزام سجا کر، اور خود کو اندھیری گھاٹیوں کے سپرد کر دیتا ہے۔
اپنا کندھا صرف جنازوں کے لیے مخصوص نہ کریں۔ کبھی یہ کندھا کسی زندہ انسان کو بھی دے دیں، تاکہ وہ اس پر سر رکھ کر رو سکے اور خود کو یہ یقین دلا سکے کہ اس کے پاس بھی کوئی ایسا ہے جو اس کے درد کو سہارا دے سکتا ہے۔
مرنے والوں کو تو کوئی نہ کوئی کندھا دے ہی دیتا ہے، مگر زندہ لوگوں کو کندھا دینے والا ہی درحقیقت انسان کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔