آج کل ایک نیا رجحان تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔


دو دوست ہاتھ ملا کر کھڑے ہوتے ہیں،
پھر اُن ہاتھوں پر گرم چائے ڈال دی جاتی ہے۔
جو پہلے ہاتھ چھوڑ دے وہ بے وفا قرار پاتا ہے،
اور جو ہاتھ نہ چھوڑے وہ سچا دوست کہلاتا ہے۔

سننے میں یہ شاید ایک دلچسپ یا جذباتی تجربہ لگے،
مگر کیا واقعی دوستی کا معیار یہی رہ گیا ہے؟
کیا وفاداری کا فیصلہ چند لمحوں کے درد سے ہو سکتا ہے؟

عجیب بات یہ ہے کہ ہم اُس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں
جہاں لوگ قرآن پر ہاتھ رکھ کر بھی جھوٹ بول جاتے ہیں،
ماں باپ کی قسم کھا کر بھی مکر جاتے ہیں،
اور وعدہ نبھانا کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔
جہاں برسوں کی رفاقت، خاموش قربانیاں
اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہونا
اب کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتا۔

وہاں ایک لمحے کی برداشت کو
دوستی، وفا اور اخلاص کا سرٹیفکیٹ بنا دیا گیا ہے،
حالانکہ اصل وفا نہ تو دکھاوے میں ہوتی ہے
اور نہ ہی کیمرے کے سامنے ثابت کی جاتی ہے۔

اصل امتحان یہ نہیں
کہ تم چند لمحے گرم چائے میں ہاتھ رکھ سکتے ہو یا نہیں،
اصل امتحان تو یہ ہے
کہ جب تم زندگی کی ٹھوکر سے گر جاؤ،
جب تم خاموش ہو جاؤ،
جب تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہ بچے،
تب کون تمہارا ہاتھ تھامے رکھتا ہے؟

کون بغیر سوال کیے تمہارے ساتھ کھڑا رہتا ہے؟
کون تمہاری کمزوریوں کو تماشا نہیں بناتا؟
کون تمہارے زخموں کو سوشل میڈیا کی زینت نہیں بناتا؟
اور کون تمہاری غیر موجودگی میں بھی
تمہارا دفاع کرتا ہے؟

آج کل لوگ ٹرینڈز کے لیے اپنے ہاتھ جلا لیتے ہیں،
مگر افسوس کہ
ضمیر، وعدے اور رشتے
روز جلا کر بھی مطمئن رہتے ہیں۔
ہم نے برداشت کو وفا سمجھ لیا ہے
اور بے حسی کو مضبوطی کا نام دے دیا ہے۔

یاد رکھو،
وفا درد برداشت کرنے کا نام نہیں،
وفا درد بانٹ لینے کا ہنر ہے۔
وفا یہ ہے کہ کسی کے گرنے پر
اسے اٹھانے کا حوصلہ رکھا جائے،
نہ کہ اس کے جلتے ہاتھوں کی ویڈیو بنا کر
تالیاں سمیٹی جائیں۔