کیا فرشتے واقعی کاپی اور پنسل کے ساتھ لکھتے ہیں؟


ہمارے کندھے پر موجود “کراماً کاتبین” فرشتے کے تصور کو اکثر ہم نے بچپن میں یوں سمجھا کہ یہ فرشتے بس کاپی اور پنسل لے کر ہمارے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور حیران کن ہے۔

1933 میں مشہور سائنسدان نکولا ٹیسلا نے یہ خیال پیش کیا کہ ہمارے خیالات دراصل توانائی کی صورت ہیں جنہیں تصویری شکل میں بدلا جا سکتا ہے۔ آج سائنس یہ کہتی ہے کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں، ہمارا دماغ مخصوص قسم کے برقی سگنلز خارج کرتا ہے جنہیں ڈی کوڈ کر کے کمپیوٹر سکرین پر دکھایا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں نامور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کو مکمل مفلوج ہونے کے بعد بھی کمپیوٹر کے ذریعے صرف پلکوں کی حرکت سے گفتگو ممکن بنا دیا گیا۔

مگر ہمارے تعلیمی نظام میں آج بھی بس نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھائی جاتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ ہمارا دین چودہ صدی قبل ہی اس ٹیکنالوجی کی نشاندہی کر چکا تھا، جسے صرف مومن کی فراست اور شعور سے سمجھا جا سکتا ہے۔

بخاری شریف کی ابتداء ہی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ سادہ دل مسلمانوں کے نزدیک یہ بس ایک اخلاقی سبق ہے، لیکن سائنس کے نظر سے دیکھیں تو ہمارا عمل ایک وجودی چیز ہے جبکہ نیت، یعنی خیال اور جذبہ، میٹافزیکل ہے۔ ٹیسلا کے مطابق خیال توانائی کی ایک شکل ہے۔ ہم جو سوچتے ہیں، دماغ سے برقی سگنل خارج ہوتے ہیں جنہیں ڈی کوڈ کر کے تصویری شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خیالات یا سوچ ایک نشان ضرور چھوڑتے ہیں، اور وہ عمل جس پر ہم عمل کرتے ہیں، وہ اس خیال اور سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ نہ صرف ہمارے اعمال بلکہ ہماری نیت، یعنی خیال کو بھی پرکھتا ہے۔

قرآن میں سورہ ق میں ارشاد ہے:
"وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے"
یعنی الفاظ سے پہلے ہی ہمارے خیالات ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بات کہہ رہی ہے، بیشک ہم تمہارے اعمال لکھوا رہے تھے"

اگر آج کا انسان اور سائنس ایسی مشینیں بنا سکتے ہیں جو دماغ کی لہروں کو تصویروں میں بدل دیں، تو کیا اللہ تعالیٰ کو کسی کاپی اور پنسل کی ضرورت ہوگی کہ فرشتے منشیوں کی طرح بس اعمال لکھتے رہیں؟ اللہ ہماری پوری زندگی کے اعمال کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے چھپی نیت اور خیال کی مکمل حقیقت بھی جانتا ہے۔