جگنو جو نہ کسی کو نقصان دیتا تھا،
نہ کسی سے مقابلہ کرتا تھا،
وہ تو بس اپنی فطری روشنی کے ساتھ جیتا تھا،
چمکتا تھا… اور اندھیرے میں راستہ دکھاتا تھا۔
کچھ دیر بعد جگنو رک گیا اور نہایت سکون سے سانپ سے مخاطب ہوا:
“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟”
سانپ نے سرد لہجے میں کہا:
“پوچھ لو۔”
جگنو نے پہلا سوال کیا:
“کیا میں اُن مخلوقات میں شامل ہوں جنہیں آپ کھاتے ہیں؟”
سانپ نے جواب دیا:
“نہیں۔”
جگنو نے دوسرا سوال کیا:
“کیا میں نے کبھی آپ کو نقصان پہنچایا ہے؟”
سانپ نے کہا:
“نہیں۔”
جگنو نے تیسرا سوال پوچھا:
“تو پھر آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں؟”
سانپ کچھ لمحے خاموش رہا،
پھر تلخی سے بولا:
“اس لیے کہ میں تمہاری روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔
تمہارا چمکنا مجھے بےچین کر دیتا ہے۔”
سبق
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
جو آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے،
آپ سے کوئی نقصان بھی نہیں پاتے،
مگر پھر بھی
آپ کی ترقی،
آپ کی خوبی،
اور آپ کی روشنی
انہیں چین سے جینے نہیں دیتی۔
وہ خاموش رہتے ہیں،
سانپ کی طرح،
اور موقع ملتے ہی
آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
کڑوا سچ
ہر سانپ زہر نہیں اگلتا،
کچھ صرف اس لیے ڈستے ہیں
کیونکہ وہ خود کبھی جگنو نہیں بن سکتے۔
دعا ہے
یا اللہ!
ہمیں اور ہمارے پیاروں کو
حاسدوں، دشمنوں، بغض رکھنے والوں
اور پوشیدہ شر پھیلانے والوں کے شر سے
ہمیشہ محفوظ فرما۔
آمین۔