راستوں کا ہجوم اور انسان کی گمشدہ سمت


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک اجنبی شخص یونہی بھٹکتا ہوا ایک ایسی جگہ آ پہنچا جہاں سے کئی راستے مختلف سمتوں میں پھیل رہے تھے۔

وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا، جیسے اس کے سامنے راستے نہیں بلکہ سوال کھڑے ہوں۔

وہیں قریب ایک بزرگ لکڑیاں چن رہے تھے۔ اجنبی نے آگے بڑھ کر ایک راستے کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا:
“بابا جی، یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟”

بزرگ نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا:
“دولت پور کی طرف۔”

اجنبی نے دوسرے راستے کی طرف اشارہ کیا:
“اور یہ؟”
“یہ دین گاہ کو جاتا ہے۔”

“یہ والا؟”
“یہ شہرت آباد کی سمت ہے۔”

“اور یہ چوتھا راستہ؟”
“یہ مقصد نامی گاؤں تک لے جاتا ہے۔”

اجنبی ذرا ٹھٹکا۔ وہ پانچویں راستے کی طرف اشارہ کرنے ہی والا تھا کہ بزرگ نے لکڑیاں ایک طرف رکھ دیں اور اس کی طرف دیکھ کر پوچھا:
“یہ بتاؤ، تم نے جانا کہاں ہے؟”

اجنبی چونکا، پھر کندھے اچکا کر بولا:
“کہیں نہیں… بس یونہی سوال کر رہا تھا۔”

بزرگ مسکرائے اور بولے:
“پھر تمہیں راستوں سے کیا لینا؟ جسے اپنی منزل معلوم نہ ہو، اس کے لیے ہر راستہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ وہ جہاں بھی پہنچے، حقیقت میں کہیں نہیں پہنچتا۔”

اجنبی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

اور یہی حال اکثر انسانوں کا ہے۔
ہم چلتے بہت ہیں، مگر جانتے نہیں کہ کیوں چل رہے ہیں۔
سال گزرتے جاتے ہیں، عمر آگے بڑھتی رہتی ہے، مگر منزل کا سراغ نہیں ملتا۔

ہم کسی کی شہرت دیکھ کر آہ بھرتے ہیں،
کسی کی دولت دیکھ کر شکوہ کرتے ہیں،
کسی کی نیکی پر داد دیتے ہیں،
کسی کی قیادت پر تالیاں بجاتے ہیں،
اور جب خود سے پوچھا جائے کہ تم کہاں جا رہے ہو،
تو جواب خاموشی ہوتا ہے۔

پھر ہم زندگی کو چند لفظوں میں سمیٹ دیتے ہیں:
کھایا، پیا، کمایا، شادی کی، بچے ہوئے، اور ایک دن سب ختم۔

اگر زندگی واقعی اسی کا نام ہے تو معذرت کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ یہ زندگی نہیں،
یہ تو صرف دنوں اور سالوں کی شکل میں گنے ہوئے چند ہندسے ہیں،
جو کسی طرح پورے کر لیے جاتے ہیں۔

زندگی یہ ہے کہ ایک راستہ چنو،
اس پر پورے یقین کے ساتھ چلو،
ضرورت پڑے تو ساری دنیا سے بغاوت کر لو،
ڈٹ جاؤ،
اور اسی ایک راستے کو سر کرنے میں اپنی عمر لگا دو۔

اور اگر اس راستے میں خود گر جاؤ،
تو وہیں سے اپنی اولاد کو آگے بڑھا دو،
کیونکہ اولاد اللہ کی طرف سے دیا گیا دوسرا موقع ہوتی ہے۔

دوسروں کے مقاصد پر رشک، حسد یا جلن کرنے سے ہماری زندگی قیمتی نہیں ہو جاتی۔
زندگی تب انمول بنتی ہے جب ہمارا اپنا ایک بڑا مقصد ہو۔

میری نظر میں کامیابی یہ ہے کہ انسان ایسا کام کر کے دنیا سے جائے
جس کی بازگشت صدیوں تک سنائی دے،
اور وہی کام بروزِ حشر اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے۔

اللہ ہم سب کو بامقصد زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔