چند ماہ قبل میرا بیٹا حسین، جو حال ہی میں ویٹرنری ڈاکٹر بنا ہے، اپنے تعلیمی مشاہدے کے لیے خرگوشوں کی ایک جوڑی گھر لے آیا۔ وہ ہمارے صحن میں ایک دڑبے میں رہنے لگی۔
گزشتہ ہفتے جب میں نے انہیں باہر نکالا تو مادہ خرگوش کے رویّے میں غیر معمولی بے چینی محسوس کی۔ وہ کبھی تھوڑا سا پالک کھاتی، پھر اچانک اپنے جسم کے بال نوچنے لگتی، دوبارہ دڑبے میں چلی جاتی اور کچھ دیر بعد پھر یہی عمل دہراتی۔
میں نے سمجھا شاید اسے کسی قسم کی الرجی یا خارش ہو گئی ہے، اسی لیے اپنے بال نوچ رہی ہے۔ اسی دوران حسین یونیورسٹی سے واپس آیا تو میں نے سارا معاملہ اس کے سامنے رکھا اور کہا کہ اپنے اساتذہ سے مشورہ کر کے اس جانور کا علاج کروایا جائے، کیونکہ وہ واضح طور پر تکلیف میں دکھائی دے رہی تھی۔
حسین خرگوش کو دیکھنے صحن میں گیا اور چند لمحوں بعد خوشی سے دوڑتا ہوا واپس آیا۔ کہنے لگا:
“امی! مادہ خرگوش نے بچے دیے ہیں، سب آ کر دیکھیں!”
ہم سب حیرت اور تجسس کے عالم میں دڑبے کی طرف لپکے۔ وہاں جو منظر میری آنکھوں کے سامنے آیا، وہ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
میں نے دیکھا کہ ماں نے اپنے جسم کے بال نوچ نوچ کر مٹی پر ایک نرم اور گرم بچھونا بنا رکھا تھا، اور اپنے نوزائیدہ بچوں کو انہی بالوں میں لپیٹ کر محفوظ کر رکھا تھا۔ ان ننھے بچوں کے جسم پر ابھی بال نہیں تھے اور سردی کے موسم میں انہیں ٹھنڈ لگنے کا شدید خطرہ تھا۔ ماں نے اپنے وجود سے محروم ہو کر اپنے بچوں کے لیے حرارت کا انتظام کیا تھا۔
وہ ایک بے زبان جانور تھی، مگر اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف جانور نہیں تھی، وہ ماں تھی۔
ایسی ماں جو اپنی اولاد کے لیے تکلیف، درد اور قربانی کو خوشی سے قبول کر لیتی ہے۔ ایسی ماں جو خود کو بھول کر اپنے بچوں کی زندگی کو ترجیح دیتی ہے۔
میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ میرے ذہن میں وہ تمام مائیں گردش کرنے لگیں جو اپنی اولاد کی بے قدری، لاپروائی اور ظلم سہہ کر بھی دعا ہی دیتی ہیں۔ میں نے کانپتی آواز میں اپنے بیٹے سے صرف اتنا کہا:
“بیٹا، اپنی نسل کو یہ منظر ضرور دکھانا، اور انہیں بتانا کہ ماں کیا ہوتی ہے۔”
واقعی…
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔
یہ تحریر صرف ایک واقعہ نہیں، ایک احساس ہے۔ اگر یہ احساس کسی دل تک پہنچ جائے، تو شاید کسی ماں کی آنکھوں کے آنسو تھم جائیں۔