اصل مسئلہ پدرانہ نظام یا مرد کی تربیت؟
آج کے جدید بیانیے اور حقوقِ نسواں سے وابستہ کئی ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ
عورت پر ہونے والے مظالم کی بنیادی وجہ پدرانہ معاشرہ ہے،
جہاں مرد شوہر یا باپ کی حیثیت سے عورت کو دباتا، اس کے حقوق سلب کرتا اور اس کی تذلیل کرتا ہے۔
ان کے نزدیک اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ
عورت کو گھریلو دائرے سے نکال کر
مارکیٹ اور ورک پلیس کا حصہ بنا دیا جائے،
تاکہ وہ مرد کی نام نہاد قید سے آزاد ہو سکے۔
آئیے ایک لمحے کے لیے اس مفروضے کو درست مان لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ
جو مرد اتنا ظالم ہے کہ
وہ اپنی بیوی، بہن یا بیٹی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا،
ان کی عزت اور حقوق کی حفاظت نہیں کرتا،
کیا وہی مرد دفتر میں اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ
مہذب اور بااخلاق رویہ اختیار کرے گا؟
کیا ایسا مرد، جو گھر کے اندر عورت کو کم تر سمجھتا ہے،
ورک پلیس میں اچانک فرشتہ صفت بن جائے گا؟
یقیناً نہیں۔
یہ تصور خود اپنی بنیاد میں کمزور ہے کہ
ایک ہی شخص گھر میں ظالم ہو
اور باہر کی دنیا میں عورتوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ثابت ہو۔
اسی سوچ کے تحت مغربی معاشروں میں
خوشنما نعروں اور آزادی کے وعدوں کے ساتھ
عورت کو معاشی منڈی کا حصہ بنایا گیا،
لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ
عورت پر تشدد میں کمی آنے کے بجائے
اس میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا،
اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ
نوکری پیشہ خواتین کی ایک بڑی تعداد
دفاتر میں ہراسانی، ذہنی دباؤ اور استحصال جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں
عورت جس پیمانے پر تشدد اور عدم تحفظ کا شکار ہے،
اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟
اس لیے کہ مسئلے کی تشخیص ہی غلط کی گئی۔
پدرانہ معاشرے کو مکمل طور پر موردِ الزام ٹھہرانا
اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
اصل مسئلہ مرد کی اخلاقی اور فکری تربیت ہے۔
جو مرد
اپنے دینی، اخلاقی اور انسانی فرائض کو سمجھتے ہیں،
عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنا شعار بناتے ہیں،
ان کے گھروں میں عورت عزت، سکون اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارتی ہے۔
ایسی زندگی کا تصور
بہت سی مغربی عورتیں بھی نہیں کر سکتیں۔
اور اگر مرد کی تربیت ہی بگڑی ہوئی ہو،
تو پھر چاہے عورت کو
گھر سے نکال کر دنیا بھر کی آزادی دے دی جائے،
وہ مرد کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔
لہٰذا مسئلہ نظام کا نہیں،
مسئلہ انسان کی تربیت کا ہے۔