یہ سطرے اصلاح کے لیے ہیں، الزام کے لیے نہیں۔
1. کئی بار میاں بیوی کے معاملات میں غیر ضروری خاندانی مداخلت گھریلو سکون چھین لیتی ہے۔
2. رشتوں میں توازن برقرار نہ رہے تو تعلق کمزور پڑ جاتا ہے—چاہے مداخلت والدین کی ہو یا دوسرے رشتہ داروں کی۔
3. گھر کے افراد کا موبائل میں گھنٹوں گم رہنا ایک دوسرے کے احساسات کو سرد کر دیتا ہے۔
4. خاندان کے ساتھ وقت کم اور باہر کی مصروفیات زیادہ ہوں تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
5. مالی فیصلوں میں اعتدال نہ ہونا بھی تعلقات میں تلخی لاتا ہے۔
6. شوہر کا بیوی کے گھر والوں کا احترام کرنا اور بیوی کا شوہر کے والدین کو عزت دینا—یہ دونوں چیزیں شادی کی بنیاد کو مضبوط کرتی ہیں۔
7. انا پرستی اور ایک دوسرے کو کمتر سمجھنا محبت کو دیمی کی طرح کھا جاتا ہے۔
8. ایک دوسرے کے حقوق پورے نہ کرنا تعلق میں خلا پیدا کرتا ہے۔
9. غلط صحبت، غیر ذمہ دارانہ دوستیوں اور بے مقصد مشاغل سے بھی گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے۔
10. محرم و نامحرم کا خیال رکھنا اور حدود کا احترام کرنا دونوں کے اعتماد کی حفاظت کرتا ہے۔
11. گھر اور رشتوں کی دیکھ بھال میں لاپرواہی تعلقات کو کمزور کر دیتی ہے۔
12. صفائی، ترتیب اور خوش اخلاقی رشتہ نبھانے میں حیرت انگیز کردار ادا کرتی ہیں۔
13. بدکلامی، تیز مزاجی اور بے حیائی گھر کی برکت کم کر دیتی ہے۔
14. غیر ضروری آزاد خیالی اور ہر کسی سے بے تکلفی اکثر دلوں میں شک کے بیج بو دیتی ہے۔
15. اپنے مسائل دوسروں کے گھروں میں لے جانا اور وہاں ہمدردیاں تلاش کرنا بھی رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
آخر میں حقیقت یہی ہے کہ:
کامیاب شادی تب بنتی ہے جب میاں بھی عزت دے، بیوی بھی احترام کرے، اور دونوں کے گھر والے فاصلہ اور حکمت سمجھیں۔
اگر بیٹی کو رخصت کرتے وقت والدین یہ سمجھا دیں کہ:
“بیٹی، یہ گھر تمہارا اور تمہارے شوہر کا ہے—اسے محبت سے آباد کرو، ہم تمہاری زندگی میں غیر ضروری مداخلت نہیں کریں گے”—
تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ جائیں۔
اللہ ہر گھر میں محبت، سکون اور سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔
آمین۔
❤️ اگر آپ یہاں تک پڑھ کر پہنچے ہیں تو ایک کمنٹ ضرور کیجیے،
اس سے حوصلہ بڑھتا ہے۔