آج صبح تندور پر روٹیاں لیتے ہوئے ایک صاحب پورے یقین کے ساتھ فرما رہے تھے:
“بچوں کو مارنے میں والدین کے لیے بڑا ثواب ہے۔”
میں روٹیاں تھام چکا تھا، مگر جاتے جاتے رک گیا اور صرف ایک سوال کر بیٹھا:
“کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں بچوں کو کتنی بار مارا؟”
یہ سوال سنتے ہی وہ صاحب اچانک خاموش ہو گئے۔
یوں لگا جیسے بات کا جواب ان کے پاس کبھی تھا ہی نہیں۔
ہمارے معاشرے میں بچوں پر ہاتھ اٹھانا نہ شرم سمجھا جاتا ہے، نہ جرم۔
منبر پر اسلام کو امن اور رحمت کا دین کہا جاتا ہے،
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نماز کے سجدے اس لیے لمبے کر دیتے تھے
کہ نواسۂ رسول ﷺ پشت پر سوار ہوتے تھے،
مگر یہ کم ہی کہا جاتا ہے کہ
اسی نبی ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت اور برداشت کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔
والدین کے احترام پر طویل خطبے سنائے جاتے ہیں،
مگر بچوں کے حقوق، ان کی عزتِ نفس،
ان کے جذبات اور خوف…
یہ سب باتیں کہیں راستے میں گم ہو جاتی ہیں۔
چند دن پہلے جمعہ کے دن دیکھا کہ
بچوں کو صفوں سے ہٹا کر پیچھے کیا گیا،
پیچھے کرتے ہوئے کچھ بچے سرد فرش پر کھڑے کر دیے گئے،
اور بڑے خود نرم قالینوں پر سکون سے نماز میں کھڑے رہے۔
میں نے سرِعام بچوں کو ذلیل ہوتے دیکھا ہے،
معمولی غلطیوں پر تھپڑ اور گالیاں کھاتے دیکھا ہے،
اور ایسے مرد بھی دیکھے ہیں
جو بازار میں بچے کو لاتوں سے مارتے ہوئے بھی نہیں شرماتے۔
میں ایک ایسی لڑکی کو بھی جانتا ہوں
جس کا بچپن تشدد، خوف اور ظلم میں گزرا۔
روتی تو ماں منہ دبا دیتی،
نہ سوتی تو بے سوچے سمجھے دوائیاں پلا دی جاتیں،
غصہ آتا تو زمین پر پٹخ دیا جاتا۔
وہ بچی آج جوان ہے،
مگر اندر سے ٹوٹی ہوئی،
جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔
اب سوال یہ ہے:
قصور کس کا ہے؟
کیا بچے کو درد محسوس نہیں ہوتا؟
کیا اس کی عزتِ نفس نہیں ہوتی؟
کیا وہ انسان نہیں ہوتا؟
یہ تحریر یہ نہیں کہتی کہ بچوں کی اصلاح نہ کی جائے،
انہیں غلط اور صحیح کا فرق نہ سکھایا جائے،
غلطی پر ٹوکا نہ جائے۔
ضرور ٹوکیں، سمجھائیں،
ضرورت پڑے تو سختی بھی کریں،
مگر یاد رکھیں:
ڈر کردار بناتا ہے، مار نہیں۔
جو والدین بات بات پر ہاتھ اٹھاتے ہیں،
وہ اپنی عزت بھی کھو دیتے ہیں
اور بچوں کے دل سے خوفِ ادب بھی۔
یاد رکھیں…
تشدد میں پلنے والے بچے
اکثر بڑے ہو کر
یا تو ٹوٹ جاتے ہیں
یا خود تشدد کا حصہ بن جاتے ہیں۔
بچے بھی انسان ہیں۔
بس چھوٹے ہوتے ہیں… کمزور نہیں۔