حرص کی ایک رات، افسردگی کی ایک صبح

ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:
“میرے خادم خوش و خرم رہتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ اور میں، اتنے خزانے رکھنے کے باوجود، اکثر بے سکون رہتا ہوں… آخر کیوں؟”

وزیر احترام سے بولا:
“بادشاہ سلامت، اگر آپ اجازت دیں تو میں قانونِ ننانوے کے ذریعے اس کا جواب پیش کر سکتا ہوں۔”

بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
“قانونِ ننانوے؟ وہ کیا ہے؟”

وزیر نے عرض کیا:
“آپ اپنے کسی خدمتگار کو آزما کر دیکھ لیجیے۔ ایک برتن میں ننانوے درہم رکھ کر اس پر لکھ دیں: ‘تمہارے لیے سو درہم کا تحفہ’… پھر رات کے وقت یہ برتن اس کے دروازے پر رکھ کر دستک دیں اور دور سے تماشا دیکھیں۔”

بادشاہ نے وہی کیا۔
خادم نے دروازہ کھولا، برتن اٹھایا اور اندر چلا گیا۔ جب درہم گنے تو ننانوے نکلے۔ تحریر میں سو دیکھ کر فوراً سوچا:
“ایک درہم شاید باہر گر گیا ہو!”

وہ اور اس کے گھر والے پوری رات ایک درہم کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے۔
نہ درہم ملا، نہ سکون… الٹا جھنجھلاہٹ، غصہ، بحث اور تھکن ان کا مقدر بن گئی۔

اگلی صبح وہی خوش باش خادم محل پہنچا، مگر آج اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی، چہرے پر مایوسی اور انداز میں چڑچڑا پن صاف دکھائی دے رہا تھا۔

بادشاہ نے سب کچھ دیکھ لیا اور وزیر کی طرف دیکھ کر بولا:
“اب سمجھ آیا… قانونِ ننانوے یہی ہے!”

وزیر نے مسکرا کر کہا:
“جی ہاں حضور! انسان اپنی زندگی کی 99 نعمتوں کو بھول کر ہمیشہ اس ایک نعمت کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جو ابھی اسے نہیں ملی۔
اُس ایک چیز کی کمی اسے باقی ساری نعمتوں کی لذت سے محروم کر دیتی ہے۔
حالانکہ وہ ایک چیز بھی اللہ رب العزت کی حکمت کے تحت روکی ہوتی ہے، دینا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہیں!”


جو کچھ ملا ہے اس کا شکر ادا کیجیے، اور جو ابھی نہیں ملا اس پر صبر کیجیے۔
شکر کرنے والے ہی اصل خوش نصیب ہوتے ہیں۔

اللّٰہ ہمیں صبر اور شکر کرنے والوں میں شامل فرمائے۔
        آمین، یا رب العالمین 
❤️ اگر یہاں تک پڑھ لیا ہے تو ایک کمنٹ تو بنتا ہے! 🤗