دل سے سلام ہر اس عورت کو، مگر! جانیئے کیوں؟

شوہر نے پیار سے بیوی سے پوچھا:
“شادی کے بعد مرد آخر کیا کھوتا ہے اور کیا پاتا ہے؟”

بیوی نے ہلکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا:
“مرد اپنی تنہائی کی آزادی ضرور کھو دیتا ہے… وہ زمانہ بھی چلا جاتا ہے جب اسے ہر فیصلہ خود کرنا ہوتا تھا۔
وہ بےفکری کے وہ دن بھی ختم ہو جاتے ہیں جب کسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہوتا تھا۔

لیکن اس کے بدلے وہ بہت کچھ پا بھی لیتا ہے۔
وہ ایک ساتھ دینے والی بیوی پاتا ہے، اپنے بچوں کی ماں پاتا ہے،
اور ایک ایسا گھر پاتا ہے جس میں محبت، ہنسی اور زندگی کی حرارت ہوتی ہے۔”

شوہر نے ہنستے ہوئے پوچھا:
“اور خوشی…؟ وہ کہاں سے آتی ہے؟”

بیوی نے نرمی سے کہا:
“خوشی ہم دونوں مل کر بناتے ہیں۔
شادی تب خوبصورت بنتی ہے جب ہم اسے بوجھ نہیں،
بلکہ محبت، ذمہ داری اور شراکت کا سفر سمجھتے ہیں۔
اگر ہم اسے نقصان سمجھیں گے، تو دل ہمیشہ خالی رہے گا۔”

شوہر نے کچھ دیر سوچ کر پوچھا:
“کیا تم مجھے بچوں سے زیادہ چاہتی ہو یا بچوں کو؟”

بیوی نے فوراً کہا:
“بچوں کو۔”

وہ چونک کر پوچھنے لگا: “کیوں؟”

بیوی نرم دھیمی آواز میں بولی:
“کیونکہ وہ میرے وجود کی توسیع ہیں…
میرا خون، میرا سانس، میری روح۔”

شوہر مسکرایا: “اور میں؟”

بیوی ہنس پڑی:
“تم اس سفر کے ساتھی ہو… کبھی خوشی دیتے ہو، کبھی پریشان کرتے ہو،
لیکن میرے دل میں تمہاری جگہ ہے، اپنی جگہ!”

یہ باتیں سن کر شوہر سوچ میں پڑ گیا کہ
کیا واقعی میاں بیوی کا رشتہ قربانی و محبت سے پروان چڑھتا ہے…؟
اور کیا یہ قربانیاں ہمیشہ سمجھی بھی جاتی ہیں؟

درحقیقت ہمارے معاشرے میں عورت ہی گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔
وہ ماں ہے جو راتوں کو جاگتی ہے،
وہ بیوی ہے جو شوہر کا ساتھ نبھاتی ہے،
وہ بہو ہے جو گھر سنبھالتی ہے،
وہ بہن ہے جو حوصلہ دیتی ہے۔
وہ خاموشی سے ہر بوجھ اٹھاتی ہے،
تھک بھی جائے تو چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتی ہے۔

مگر افسوس…
جب کچھ غلط ہو جائے تو سب سے پہلے انگلی عورت پر ہی اٹھتی ہے:
“بچہ بدتمیز ہوا؟ ماں ذمہ دار!”
“شوہر خوش نہیں؟ بیوی قصوروار!”
“گھر بکھرا ہے؟ بیوی نکمی!”
“بچہ پیچھے رہ گیا؟ ماں کہاں تھی؟”

حالانکہ ایک عورت ایک پورا ادارہ ہے،
وہ استاد بھی ہے، معالج بھی،
مشیر بھی، خدمت گزار بھی،
مربی بھی، محبت کا خزانہ بھی۔

وہ دل ہے…
اور دل ہمیشہ صرف دیتا ہے۔

اس لیے دل سے سلام ہر اس عورت کو جو…

اپنی خوشیاں قربان کرتی ہے،
گھر کو سنوارتی ہے،
بچوں کو مستقبل دیتی ہے،
اور تھکن کے باوجود مسکراہٹ بانٹتی ہے۔

اے عورت! سر اُٹھا کر جیو۔

تم نسلوں کی معمار ہو،
تم محبت کی روشنی ہو،
تم طاقت کا سرچشمہ ہو۔
اپنے وجود پر فخر کرو… کیونکہ تم کوئی عام ہستی نہیں,
تم وہ عورت ہو جس کے دم سے یہ دنیا چلتی ہے۔