ایک بار ایک نوجوان طالبِ علم اپنے شیخ سے علم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس جانے لگا۔
رخصت ہوتے ہوئے استاد نے پوچھا:
“بیٹا! ایک بات بتاؤ… کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟”
شاگرد نے مسکرا کر کہا:
“حضرت! شیطان کہاں نہیں ہوتا؟ وہ تو ہر جگہ موجود ہے۔”
استاد نے اگلا سوال کیا:
“اچھا، اگر شیطان تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹانے لگے تو تم کیا کرو گے؟”
شاگرد نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا:
“میں اس کا مقابلہ کروں گا!”
شیخ نے دوبارہ پوچھا:
“فرض کرو تم نے اس کو شکست دے دی، مگر جیسے ہی تم نے اللہ کے قرب کی کوشش کی، وہ پھر تمہارے سامنے آگیا… تو تم کیا کرو گے؟”
شاگرد نے کہا:
“میں پھر لڑوں گا!”
استاد نے تیسری بار پوچھا:
“اور اگر وہ بار بار تمہیں راہِ حق سے روکنے کے لیے آتا رہے تو؟”
اب شاگرد تھوڑا سوچ کر بولا:
“تو میں پھر مقابلہ کروں گا… میرے پاس اور راستہ ہی کیا ہے؟”
استاد نے گہری سانس لی اور فرمایا:
“بیٹا! اگر تم ساری عمر شیطان سے لڑتے ہی رہو گے،
تو اللہ تک پہنچو گے کب؟
راہ تو تب کھلے گی جب تم اللہ سے مدد مانگو گے۔”
پھر شیخ نے ایک مثال دی:
“فرض کرو تم اپنے کسی دوست سے ملنے جا رہے ہو اور اس کے دروازے پر ایک کتا پہرہ دے رہا ہو۔
اگر وہ تمہاری اڑنگ پکڑ لے، تو تم کیا کرو گے؟”
شاگرد فوراً بولا:
“میں اسے ہٹانے کی کوشش کروں گا۔”
استاد نے کہا:
“اگر وہ دوبارہ آکر تمہیں روک لے؟”
شاگرد بولا:
“میں پھر اسے دور کرنے کی کوشش کروں گا۔”
شیخ نے تیسرے سوال پر کہا:
“اور اگر وہ بار بار روک رہا ہو؟”
شاگرد کچھ دیر سوچ کر بولا:
“پھر میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ وہ باہر آکر اپنے کتے کو روک لے۔”
اس پر استاد مسکرا کر بولے:
“بس! یہی راستہ شیطان کے مقابلے میں بھی ہے۔
جب تم بار بار گرتے رہو،
بار بار بہک جاؤ،
یا شیطان بار بار تمہیں روک لے…
تو اپنے رب کو پکارو۔
وہی ہے جو شیطان کو تم سے دور رکھ سکتا ہے۔
جب تم مالک کا ہاتھ پکڑ لو گے،
تو اس کے نوکر سے کیوں ڈرو گے؟”
پھر شیخ نے کہا:
“یہی علاج قرآن نے سکھایا ہے:
اللہ کی پناہ میں آ جاؤ ،
پھر کوئی شیطان تمہیں نہیں روک سکتا۔”