طوطا اور کوّا، دو فطرتیں، ایک پنجرہ

ایک شخص نے ایک دن طوطے اور کوّے دونوں کو ایک ہی پنجرے میں قید کر دیا۔
طوطا چونکا، گھبراہٹ میں اس کی نظر کوے پر پڑی تو وہ بےاختیار پکار اٹھا:

“یا اللہ! یہ کیسا سیاہ، بھدا اور خوفناک پرندہ میرے ساتھ بٹھا دیا ہے؟
نہ رنگ، نہ نزاکت، نہ انداز… اس کی صورت دیکھ کر دل کانپ جائے!”

طوطا کو دکھ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ کوے کے پاس ہے،
بلکہ یہ بھی کہ اس کی نفاست اور نرمی ایسی سخت شکل کے ساتھ جمع کیسے ہو سکتی ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کوّا بھی کچھ کم پریشان نہ تھا۔
وہ بار بار لاحول پڑھتا، آسمان کی طرف دیکھ کر شکایت کرتا:

“اے میرے رب! آخر کون سا گناہ کیا تھا میں نے
کہ مجھے اس مغرور، کم عقل اور ناسمجھ طوطے کے ساتھ قید کر دیا؟
میرا مقام تو کھلی فضا میں، چمن کی دیواروں پر اڑتے ہوئے
اپنے ہم جنسوں کے درمیان تھا،
یہاں اس انا پرست پرندے نے جینا حرام کر رکھا ہے!”

یوں ایک ہی پنجرے میں بیٹھے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے عاجز تھے،
طوطا کو کوے کی سیاہی ناگوار، اور کوا طوطے کی نزاکت سے پریشان۔


🌸 حکمت کا پیغام

دانا اور نادان کبھی ایک دوسرے کی صحبت سے سکون حاصل نہیں کر سکتے۔
جیسے خوشبو اور بدبو ساتھ نہیں چل سکتیں،
اسی طرح حکمت اور جہالت کی راہیں بھی جدا ہوتی ہیں۔

عقل مند کے لیے نادان کی بے وقوفیاں عذاب ہوتی ہیں،
اور نادان کے لیے دانا کی روشنی ایک تکلیف بن جاتی ہے۔
ہر فطرت اپنی ہی جیسی فطرت میں اطمینان پاتی ہے،
اسی میں اس کا سکون، اسی میں اس کی راحت ہے۔

🤲 دعا کی درخواست

یا اللہ!
موت کی سختیوں سے، قبر کی وحشت سے،
قیامت کی شرمندگی اور جہنم کی گرمی سے ہماری حفاظت فرما۔
آمین۔

معزز قارئین!
اگر آپ نے آج حضور ﷺ پر درودِ پاک نہیں پڑھا،
تو ابھی پڑھ لیجیے۔
درود پاک دل کو روشن کرتا ہے، روح میں سکون بھرتا ہے
اور نامۂ اعمال میں نور بڑھاتا ہے۔

🌹 صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم 🌹