پرانے عرب خانہ بدوش قبائل کی زندگی ہمیشہ بادلوں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر میں گزرتی تھی۔ انہی بستیوں میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کی ایک ضعیف اور کمزور ماں تھی۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت اکثر دھندلا جاتی، اور وہ خیمے سے بار بار باہر نکل آتی۔ بیٹا اسے تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، مگر اس کی کمزوری کی وجہ سے ہر سفر ایک مشکل بن جاتا تھا۔
ایک دن قبیلہ روانہ ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ نوجوان نے اندر دبی ہوئی بے صبری کے ساتھ اپنی بیوی سے کہا:
“کل تم قبیلے کے ساتھ چل دینا، اور ماں کو یہی چھوڑ جانا۔ پانی اور تھوڑا سا کھانا رکھ دینا… شاید کوئی قافلہ اسے سنبھال لے۔”
بیوی نے دل پر جبر کرتے ہوئے سر ہلا دیا، مگر اس کے دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔
اگلی صبح قافلہ بڑھا اور وہ سب روانہ ہوئے۔ بیوی نے شوہر کی خواہش کے مطابق اس کی ماں کو خیمے میں چھوڑ دیا… مگر جاتے ہوئے اپنا اکلوتا بیٹا بھی وہیں رکھ آئی۔
دوپہر کے وقت قافلہ رکا تو حسبِ معمول شوہر نے بیوی سے کہا:
“بچے کو بلاؤ، میں اسے دیکھ لوں۔”
بیوی نے پرسکون لہجے میں جواب دیا:
“وہ میں نے تمہاری ماں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔”
یہ سنتے ہی اس شخص کے اوسان خطا ہوگئے۔
“پاگل ہو گئی ہو؟!”
بیوی نے ایک گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور بولی:
“جس راہ پر تم اپنی ماں کو چھوڑ کر آئے ہو، اسی راہ پر کل کو تمہاری اولاد بھی تمہیں چھوڑ سکتی ہے۔ میں نے صرف وہی کیا ہے تاکہ تمہیں اپنے عمل کا عکس دکھا سکوں۔”
اس کے جسم سے جان جیسے نکل گئی۔ وہ پل بھر ضائع کیے بغیر گھوڑے پر سوار ہوا اور تیزی سے ان کی طرف لپکا۔
جب وہ پہنچا تو منظر نے اسے اندر تک ہلا دیا۔
اس کی ماں اپنے پوتے کو سینے سے چمٹائے کھڑی تھی۔ اردگرد بھیڑیے چکر لگا رہے تھے، اور وہ ایک کمزور عورت پتھروں سے انہیں ہٹا رہی تھی۔ بچہ دادی کے گلے لگا ہوا تھا۔
یہ دیکھ کر وہ نوجوان بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
وہ اپنی ماں اور بچے دونوں کو واپس لے آیا… اور اس دن کے بعد اُس نے اپنی ماں کی خدمت میں ایسی محبت لگا دی کہ پورا قبیلہ مثالیں دینے لگا۔ سفر ہوتا تو ماں آرام سے اُونٹ پر بیٹھی ہوتی، اور وہ خود گھوڑے کے ساتھ ساتھ چلتا۔
اور اس کی بیوی؟
وہ اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے عزت کی وہ جگہ حاصل کر گئی، جو کسی دولت، کسی تحفے سے نہیں ملتی، بلکہ صرف دانائی سے ملتی ہے۔
کیا یہ بیوی کی طرف سے سب سے عظیم تحفہ نہ تھا؟
مت ٹٹولا کیجیے میرے لفظوں سے میری ذات
اپنی ہر تحریر کا عنواں نہیں ہوں میں